حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ علیرضا اعرافی نے مرکزِ مدیریتِ حوزاتِ علمیہ کے معاونین کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے زیرِ قیادت استکباری قوتوں کے مقابلے میں اسلامی محاذ کی استقامت خود ایک بڑی کامیابی ہے۔ ان کے بقول پہلی کامیابی یہ ہے کہ اسلامی نظام نے دنیا کی بڑی شیطانی طاقت کے مقابلے میں قدم رکھا، جبکہ دوسری کامیابی یہ ہے کہ تمام تر دباؤ اور مشکلات کے باوجود اپنی شناخت، وجود اور استحکام کو برقرار رکھا۔
انہوں نے کہا کہ یہ کامیابیاں صرف مادی یا عسکری میدان تک محدود نہیں بلکہ ان کی اصل اہمیت فکری، تمدنی اور نظریاتی استقامت میں ہے۔ اگرچہ یہ راستہ مشکلات اور قربانیوں سے بھرپور ہے، تاہم ملتِ ایران اور دینی قیادت نے ہمیشہ ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا ہے۔
آیت اللہ اعرافی نے واضح کیا کہ تمدنی جدوجہد کو روکنے یا اس سے پیچھے ہٹنے کا تصور غیر حقیقی ہے۔ ان کے مطابق حوزاتِ علمیہ کو بصیرت، دوراندیشی، عزتِ اسلامی، قومی وقار اور مزاحمتی ثقافت کا عملی نمونہ بننا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ علماء اور دینی مراکز کو معاشرے میں امید، استقامت اور بیداری کی روح کو زندہ رکھنے کے لیے پیش پیش رہنا ہوگا۔
انہوں نے محرم اور صفر کی آمد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عاشورا اور نہضتِ حسینی کی یاد صرف عزاداری تک محدود نہیں بلکہ یہ حق و باطل کی جدوجہد، ظلم کے خلاف مزاحمت اور دینی ذمہ داریوں کی ادائیگی کا عظیم درس بھی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان ایام میں تبلیغی، ثقافتی اور فکری سرگرمیوں کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ نوجوان نسل اور اور عوام میں دینی و انقلابی شعور کو تقویت ملے۔
مدیرِ حوزاتِ علمیہ نے ملک بھر کے دینی مدارس اور حوزوی مراکز کے نام اپنے پیغام میں علماء، طلاب اور مبلغین پر زور دیا کہ وہ محرم، صفر اور اربعین کے موقع پر وسیع پیمانے پر عوامی رابطے، دینی تبلیغ اور فکری رہنمائی کا فریضہ انجام دیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں امتِ مسلمہ، انقلابِ اسلامی اور محورِ مقاومت کے اہداف کے تحفظ کے لیے حوزوی حلقوں کی فعال اور مجاہدانہ موجودگی ناگزیر ہے۔









آپ کا تبصرہ